حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو، بلتستان کے نائب امامِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد جواد حافظی نے خطبۂ جمعہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے تمام مریضوں، بالخصوص علامہ شیخ محمد حسن جعفری اور آغا علی رضوی کی عاجل و کامل شفایابی کے لیے دعا کی۔

انہوں نے نمازِ جمعہ کے اوقات اور اذان کی ٹائمنگ کے حوالے سے کہا کہ زوال، اذان، خطبہ اور نماز کے لیے مناسب وقت کا تعین ضروری ہے، تاکہ خطیب اطمینان کے ساتھ ضروری دینی مسائل بیان کرسکے اور بزرگوں، مسافروں اور دیگر مؤمنین کی سہولت کا بھی خیال رکھا جاسکے۔ انہوں نے خطبۂ جمعہ میں روزمرہ زندگی سے متعلق شرعی احکام اور ضروری دینی مسائل کو زیادہ نمایاں کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اسلامی آداب، بالخصوص آدابِ سفر اور سفرِ آخرت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین حافظی نے کہا کہ انسان دنیا میں حج، زیارت، علاج، تجارت اور دیگر مقاصد کے لیے مختلف سفر کرتا ہے، تاہم سفرِ آخرت ایک ایسا سفر ہے جس سے کسی انسان کو مفر نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح معاشرے میں زندہ انسانوں کے لیے اسکول، ہسپتال اور دیگر ضروری سہولیات کا انتظام کیا جاتا ہے، اسی طرح غریب، نادار اور بے سہارا مؤمنین کے لیے موت اور تدفین کے مواقع پر اجتماعی تعاون اور مناسب انتظامات بھی ہماری ذمہ داری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دینی تعلیمات کا مقصد صرف انہیں سننا نہیں بلکہ انہیں عملی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔
تشییعِ جنازہ کے حوالے سے انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی مؤمن کی وفات کی اطلاع دیگر اہلِ ایمان تک پہنچانا، جنازے میں شرکت کرنا اور میت کے لیے استغفار و دعائے مغفرت کرنا اسلامی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ انہوں نے روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تشییعِ جنازہ کے ہر قدم پر اجر، مغفرت اور درجات کی بلندی کی بشارت دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنازہ محض ایک سماجی رسم نہیں بلکہ درسِ آخرت اور اصلاحِ زندگی کا ایک اہم موقع ہے۔ انسان کو جنازے کے ساتھ چلتے ہوئے اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ ایک دن اسی طرح اس کا اپنا جنازہ بھی اٹھایا جائے گا۔
حجۃ الاسلام والمسلمین حافظی نے تشییعِ جنازہ کے آداب بیان کرتے ہوئے ذکر و صلوات، سادگی، جنازے کو حتی الامکان کندھوں پر اٹھانے اور موقع ملنے پر مختلف اطراف سے باری باری کندھا دینے کی تاکید کی۔ انہوں نے سوگوار خاندان کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کو بھی اسلامی معاشرت کا اہم حصہ قرار دیا۔
انہوں نے جنازے کے دوران غیر ضروری دنیاوی گفتگو سے اجتناب، وقار کے ساتھ تشییع اور اسلامی احکام کی پابندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی دولت، مال و اسباب اور ظاہری شان و شوکت انسان کے ساتھ نہیں جاتی، اس لیے انسان کو اپنی اصل توجہ آخرت کی تیاری پر مرکوز کرنی چاہیے۔
قرآن کریم میں بیان ہونے والے واقعۂ بنی اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسان حقائق کو چھپانے کے لیے کتنے ہی پردے ڈالنے کی کوشش کرے، اللہ تعالیٰ بالآخر حقیقت کو آشکار کردیتا ہے۔
11 ستمبر 2001ء کے واقعے کے بعد دنیا میں پیدا ہونے والی جنگوں، بدامنی اور دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پیدا ہونے والی فضا پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دہشت گردی، انتہاپسندی اور مسلمانوں کو باہم لڑانے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کو جذبات کے بجائے تحقیق، شعور، اتحاد اور بصیرت کے ساتھ حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو اپنے اختلافات کو بیرونی مفادات کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی ضرورت ہے اور موجودہ حالات میں امت کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
11 ستمبر کی مناسبت سے بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے شیخ محمد جواد حافظی نے کہا کہ قیامِ پاکستان محض ایک سیاسی یا جغرافیائی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل جدوجہد اور ایک نظریاتی مقصد سے وابستہ تھا۔

انہوں نے قوم پر زور دیا کہ قیامِ پاکستان کے پس منظر، قائداعظم کی جدوجہد اور اس کے بنیادی مقاصد کو سمجھنے کے لیے تاریخ کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے۔
خطبۂ جمعہ کے اختتام پر انہوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے لیے دعائے مغفرت اور پاکستان کی سلامتی، استحکام، امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی۔









آپ کا تبصرہ